نئی دہلی، 30/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) چین نے نئی دہلی میں ہونے والی جی ٹوینٹی میٹنگ سے چند روزقبل ایک مرتبہ پھر شرانگیزی کرتے ہوئے اپنا نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں اس نے ہندوستانی ریاست اروناچل پردیش اور لداخ کے قریب واقع اکسائی چن کو اپنا علاقہ قرار دیا ہے۔ چین نے ان دونوں ہندوستانی علاقوں کو اپنے نقشے میں شامل کیا ہے۔ ان دونوں علاقوں کے علاوہ چین نے تائیوان کا علاقہ بھی اور جنوبی چینی سمندر میں واقع متنازع جزیرے بھی اپنے علاقے میں دکھائے ہیں اور انہیں نقشے میں شامل کیا ہے۔
چین کی اس حرکت پرمرکزی حکومت نے سخت اعتراض کیا ہے۔ مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ چین کی ان حرکتوں سے سچائی تبدیل نہیں ہو گی۔ اروناچل اور اکسائی چن ہندوستان کے اٹوٹ انگ ہیں اور رہیں گے ۔
دوسری طرف کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نےبھی چین کی حرکت پر سخت اعتراض کیالیکن اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ وہ چین کو سبق سکھانے کیلئے کیا کر رہی ہے؟ کھرگے نے مشورہ دیا کہ ’’چین کے عادتاً جرم کو جی 20 جیسے عالمی پلیٹ فارم پر بے نقاب کرتے ہوئے ہندوستان کو اسے سخت لہجے میں جواب دینا چا ہئے ۔ ساتھ ہی چین کو لداخ کا علاقہ خالی کرنے پر بھی مجبور کیا جانا چاہئے۔